وحدثنا داود بن رشيد ، حدثنا الوليد بن مسلم ، عن الاوزاعي ، حدثني إسحاق بن عبد الله بن ابي طلحة ، عن انس بن مالك قال: اصابت الناس سنة على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم، فبينا رسول الله صلى الله عليه وسلم يخطب الناس على المنبر يوم الجمعة، إذ قام اعرابي، فقال: يا رسول الله هلك المال وجاع العيال، وساق الحديث بمعناه، وفيه قال: " اللهم حوالينا ولا علينا "، قال فما يشير بيده إلى ناحية إلا تفرجت، حتى رايت المدينة في مثل الجوبة وسال وادي قناة شهرا، ولم يجئ احد من ناحية إلا اخبر بجود.
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ مبارک میں ایک قحط پڑا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن جمعہ کو منبر پر خطبہ پڑھتے تھے کہ ایک گاؤں والا کھڑا ہوا اور اس نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ہمارے مال برباد ہو گئے اور لڑکے بالے بھوکے مر گئے۔ اور اخیر تک حدیث بیان کی حدیث اول کے ہم معنی۔ اور اس میں یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا میں عرض کیا: ” «اللَّهُمَّ حَوَالَيْنَا وَلاَ عَلَيْنَا» اے اللہ! ہمارے گرد برسا، نہ ہم پر۔“ غرض آپ جدھر ہاتھ سے اشارہ کرتے ادھر سے بدلی کھلتی جاتی تھی، یہاں تک کہ ہم نے مدینہ کو دیکھا کہ آنگن کی طرح بیچ میں سے کھل گیا، اور قنات کا نالہ ایک مہینہ تک بہتا رہا اور کوئی شخص باہر سے نہیں آیا مگر اس نے ارزانی کی خبر دی۔