كِتَاب صَلَاةِ الْعِيدَيْنِ نماز عیدین کے احکام و مسائل

حدثني هارون بن سعيد الايلي ، حدثنا ابن وهب ، اخبرني عمرو ، ان ابن شهاب ، حدثه، عن عروة ، عن عائشة ، ان ابا بكر دخل عليها وعندها جاريتان في ايام منى تغنيان وتضربان، ورسول الله صلى الله عليه وسلم مسجى بثوبه، فانتهرهما ابو بكر، فكشف رسول الله عنه، وقال: " دعهما يا ابا بكر فإنها ايام عيد ". وقالت: رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم يسترني بردائه، وانا انظر إلى الحبشة وهم يلعبون وانا جارية، فاقدروا قدر الجارية العربة الحديثة السن.

‏‏‏‏ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ میرے گھر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ آئے اور میرے پاس دو لڑکیاں تھیں منیٰ کے دنوں میں (یعنی ذی الحجہ کی گیارھویں بارھویں وغیرہ میں) گا رہی تھیں اور دف بجاتی تھیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے سر کو چادر سے لپیٹے ہوئے تھے، تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ان دونوں کو جھڑک دیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا کپڑا اٹھایا اور فرمایا: اے ابوبکر! ان لڑکیوں کو چھوڑ دو، اس لئے کہ یہ عید کے دن ہیں۔ اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے اپنی چادر سے چھپائے ہوئے تھے اور میں ان حبشیوں کا تماشا دیکھتی تھی جو کھیل رہے تھے اور میں لڑکی تھی تو خیال کرو کہ جو لڑکی کم سن اور کھیل کود کی طالب ہو گی وہ کتنی دیر تک تماشا دیکھے گی۔

صحيح مسلم # 2063
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp