كِتَاب صَلَاةِ الْعِيدَيْنِ نماز عیدین کے احکام و مسائل

حدثنا يحيى بن ايوب ، وقتيبة وابن حجر ، قالوا: حدثنا إسماعيل بن جعفر ، عن داود بن قيس ، عن عياض بن عبد الله بن سعد ، عن ابي سعيد الخدري ، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يخرج يوم الاضحى ويوم الفطر، فيبدا بالصلاة فإذا صلى صلاته وسلم قام، فاقبل على الناس وهم جلوس في مصلاهم، فإن كان له حاجة ببعث ذكره للناس، او كانت له حاجة بغير ذلك امرهم بها، وكان، يقول: " تصدقوا تصدقوا تصدقوا "، وكان اكثر من يتصدق النساء، ثم ينصرف فلم يزل كذلك حتى كان مروان بن الحكم، فخرجت مخاصرا مروان حتى اتينا المصلى، فإذا كثير بن الصلت قد بنى منبرا من طين ولبن، فإذا مروان ينازعني يده كانه يجرني نحو المنبر، وانا اجره نحو الصلاة، فلما رايت ذلك منه، قلت: اين الابتداء بالصلاة؟ فقال: لا يا ابا سعيد قد ترك ما تعلم، قلت: كلا والذي نفسي بيده لا تاتون بخير مما اعلم ثلاث مرار، ثم انصرف.

‏‏‏‏ سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عید قربان اور عید الفطر میں جب نکلتے تو پہلے نماز پڑھتے۔ پھر جب نماز کا سلام پھیرتے تو لوگوں کی طرف منہ کر کے کھڑے ہوتے اور لوگ سب بیٹھے رہتے اپنی نماز کی جگہ پر۔ پھر اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کسی لشکر روانہ کرنے کی ضرورت ہوتی تو لوگوں سے بیان کرتے یا اور کوئی کام ہوتا تو اس کا حکم دیتے اور فرماتے: صدقہ دو، صدقہ دو، صدقہ دو۔ اور اکثر عورتیں اس دن صدقہ دیتیں پھر گھر کو لوٹتے۔ غرض آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہی عادت رہی یہاں تک کہ مروان بن حکم حاکم ہوا اور میں اس کے ساتھ ہاتھ میں ہاتھ دے کر نکلا یہاں تک کہ عید گاہ میں آئے اور وہاں کثیر بن حلت نے ایک منبر بنا رکھا تھا گارے اور اینٹوں سے۔ مروان نے مجھ سے اپنا ہاتھ چھڑانے لگا گویا وہ مجھے منبر کی طرف کھینچتا تھا اور میں اس کو نماز کی طرف پھر جب میں نے یہ دیکھا تو اس سے کہا: نماز کا پہلے پڑھنا کہاں گیا؟ اس نے کہا: اے ابوسعید! چھٹ گئ وہ سنت جو تم جانتے ہو۔ میں نے کہا: ہرگز نہیں ہو سکتا۔ قسم ہے اس پروردگار کی کہ میری جان اس کے ہاتھ میں ہے تم بہتر کام کر سکو اس سے جو میں چاہتا ہوں، (یعنی بدعت سنت کے برابر نہیں ہو سکتی، بہتر ہونا تو کجا) غرض یہ بات میں نے اس سے تین بار کہی پھر لوٹ گیا۔

صحيح مسلم # 2053
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp