وحدثني محمد بن رافع ، حدثنا عبد الرزاق ، اخبرنا ابن جريج ، اخبرني عطاء ، ان ابن عباس ، ارسل إلى ابن الزبير اول ما بويع له، " انه لم يكن يؤذن للصلاة يوم الفطر فلا تؤذن لها، قال: فلم يؤذن لها ابن الزبير يومه وارسل إليه مع ذلك إنما الخطبة بعد الصلاة، وإن ذلك قد كان يفعل، قال: فصلى ابن الزبير قبل الخطبة ".
عطاء نے کہا کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے پیغام بھیجا سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہ کی طرف جب ان سے اول اول لوگوں نے بیعت کی تھی کہ نماز فطر میں اذان نہیں دی جاتی، سو تم آج اذان نہ دلوانا، تو سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہ نے اذان نہیں دلوائی اور یہ بھی کہلا بھیجا کہ خطبہ، نماز کے بعد ہونا چاہیئے اور وہ یہی کرتے تھے، سو سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہ نے بھی نماز خطبہ سے پہلے پڑھی۔