وحدثنا محمد بن عبد الله بن نمير ، حدثنا ابي ، حدثنا عبد الملك بن ابي سليمان ، عن عطاء ، عن جابر بن عبد الله ، قال: شهدت مع رسول الله صلى الله عليه وسلم الصلاة يوم العيد، فبدا بالصلاة قبل الخطبة بغير اذان ولا إقامة، ثم قام متوكئا على بلال فامر بتقوى الله وحث على طاعته ووعظ الناس وذكرهم، ثم مضى حتى اتى النساء فوعظهن وذكرهن، فقال: " تصدقن فإن اكثركن حطب جهنم "، فقامت امراة من سطة النساء سفعاء الخدين، فقالت: لم يا رسول الله؟، قال: " لانكن تكثرن الشكاة وتكفرن العشير "، قال: فجعلن يتصدقن من حليهن، يلقين في ثوب بلال من اقرطتهن وخواتمهن.
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نماز عید میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا سو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ سے پہلے نماز پڑھی بغیر اذان اور تکبیر کے پھر سیدنا بلال رضی اللہ عنہ پر تکیہ لگا کر کھڑے ہوئے اور حکم کیا اللہ سے ڈرنے کا اور ترغیب دی اس کی فرمانبرداری کی اور لوگوں کو سمجھایا اور نصیحت کی۔ پھر عورتوں کے پاس گئے اور ان کو سمجھایا بجھایا اور فرمایا: ”خیرات کرو کہ اکثر تم میں سے جہنم کا ایندھن ہیں۔“ سو ایک عورت ان کے بیچ سے کھڑی ہو گئی پچکے رخساروں والی اور اس نے عرض کی کہ کیوں اے اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس لئے کہ شکایت بہت کرتی ہو اور شوہر کی ناشکری۔“ راوی نے کہا: پھر خیرات کرنے لگیں اپنے زیوروں میں سے اور ڈالتی تھیں سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کے کپڑے میں اپنے کانوں کی بالیں اور ہاتھوں کے چھلے۔