كِتَاب صَلَاةِ الْعِيدَيْنِ نماز عیدین کے احکام و مسائل

وحدثني محمد بن رافع ، وعبد بن حميد ، جميعا، عن عبد الرزاق ، قال ابن رافع: حدثنا عبد الرزاق ، اخبرنا ابن ، اخبرني الحسن بن مسلم ، عن طاوس ، عن ابن عباس ، قال: شهدت صلاة الفطر مع نبي الله صلى الله عليه وسلم وابي بكر، وعمر، وعثمان، فكلهم يصليها قبل الخطبة، ثم يخطب، قال: فنزل نبي الله صلى الله عليه وسلم كاني انظر إليه حين يجلس الرجال بيده، ثم اقبل يشقهم حتى جاء النساء ومعه بلال، فقال: يايها النبي إذا جاءك المؤمنات يبايعنك على ان لا يشركن بالله شيئا سورة الممتحنة آية 12، فتلا هذه الآية حتى فرغ منها، ثم قال حين فرغ منها: " انتن على ذلك "، فقالت امراة واحدة لم يجبه غيرها منهن: نعم يا نبي الله، لا يدرى حينئذ من هي، قال: " فتصدقن "، فبسط بلال ثوبه، ثم قال: هلم فدى لكن ابي وامي، فجعلن يلقين الفتخ والخواتم في ثوب بلال.

‏‏‏‏ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ میں گیا نماز فطر کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ، اور سیدنا ابوبکر و عمر و عثمان رضی اللہ عنہم سب کے ساتھ، تو ان سب بزرگوں کا قاعدہ تھا کہ نماز خطبہ سے پہلے پڑھتے تھے اور اس کے بعد خطبہ پڑھتے۔ اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم اترے یعنی خطبہ پڑھ کر گویا میں ان کی طرف دیکھ رہا ہوں، جب انہوں نے لوگوں کو ہاتھ سے اشارہ کر کے بٹھانا شروع کیا۔ پھر ان کی صفیں چیرتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم عورتوں کے پاس آئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ بھی تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھی «يَا أَيُّهَا النَّبِىُّ إِذَا جَاءَكَ الْمُؤْمِنَاتُ يُبَايِعْنَكَ عَلَى أَنْ لاَ يُشْرِكْنَ بِاللَّهِ شَيْئًا» (60-الممتحنة:12) یہاں تک کہ فارغ ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس سے اور پھر فرمایا: تم نے اس سب کا اقرار کیا۔ اس میں سے ایک عورت نے کہا کہ ہاں اے نبی اللہ تعالیٰ کے۔ راوی نے کہا: معلوم نہیں وہ کون تھی۔ پھر انہوں نے صدقہ دینا شروع کیا۔ اور سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے اپنا کپڑا پھیلایا اور کہا: لاؤ میرے ماں باپ تم پر فدا ہوں، اور وہ سب چھلے اور انگوٹھیاں اتار اتار کر سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کے کپڑے میں ڈالنے لگیں۔

صحيح مسلم # 2044
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp