كِتَاب الْجُمُعَةِ جمعہ کے احکام و مسائل

حدثنا عبد الله بن مسلمة بن قعنب ، حدثنا سليمان وهو ابن بلال ، عن جعفر ، عن ابيه ، عن ابن ابي رافع ، قال: استخلف مروان ابا هريرة على المدينة، وخرج إلى مكة " فصلى لنا ابو هريرة الجمعة، فقرا بعد سورة الجمعة في الركعة الآخرة إذا جاءك المنافقون سورة المنافقون آية 1 "، قال: فادركت ابا هريرة حين انصرف، فقلت له: " إنك قرات بسورتين كان علي بن ابي طالب يقرا بهما بالكوفة "، فقال ابو هريرة : " إني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقرا بهما يوم الجمعة ".

‏‏‏‏ ابن ابی رافع نے کہا: مروان نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو مدینہ میں خلیفہ مقرر کیا اور آپ مکہ کو گیا اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے جمعہ کی نماز پڑھائی اور سوره جمعہ کے بعد دوسری رکعت میں سوره منافقون پڑھی۔ پھر میں ان سے ملا اور کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ سورتیں پڑھیں جو سیدنا علی رضی اللہ عنہ کوفہ میں پڑھتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ جمعہ میں یہی پڑھتے تھے، (یعنی سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی تقلید سے نہیں پڑھتا بلکہ متبع دلیل ہوں۔ سبحان اللہ صحابہ رضی اللہ عنہم کو اس قدر تقلید سے نفرت تھی کہ یہ کہنا پسند نہیں آیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فعل کی سند بتائی افسوس ہے ان پر جو تقلید پر جان دیتے ہیں)۔

صحيح مسلم # 2026
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp