كِتَاب الْجُمُعَةِ جمعہ کے احکام و مسائل

وحدثنا شيبان بن فروخ ، حدثنا سليمان بن المغيرة ، حدثنا حميد بن هلال ، قال: قال ابو رفاعة : انتهيت إلى النبي صلى الله عليه وسلم وهو يخطب، قال: فقلت: " يا رسول الله رجل غريب جاء يسال عن دينه، لا يدري ما دينه، قال: فاقبل علي رسول الله صلى الله عليه وسلم، وترك خطبته حتى انتهى إلي، فاتي بكرسي حسبت قوائمه حديدا، قال: فقعد عليه رسول الله صلى الله عليه وسلم، وجعل يعلمني مما علمه الله، ثم اتى خطبته فاتم آخرها ".

‏‏‏‏ حمید بن ہلال نے کہا: ابورفاعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ پڑھ رہے تھے۔ انہوں نے کہا: میں نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول ایک مرد غریب (مسافر) اپنا دین دریافت کرنے کو آیا ہے، نہیں جانتا کہ اس کا دین کیا ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم میری طرف متوجہ ہوئے اور اپنا خطبہ چھوڑ کر میرے پاس تک آ گئے اور ایک کرسی لائے۔ میں جانتا ہوں کہ اس کے پائے لوہے کے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر بیٹھ گئے (معلوم ہوا کرسی پر بیٹھنا منع نہیں) اور مجھے سکھانے لگے جو اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سکھایا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آ کر خطبہ کو تمام کیا (یہ کمال خلق تھا اور معلوم ہوا کہ ضروری بات خطبہ میں روا ہے)۔

صحيح مسلم # 2025
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp