كِتَاب الْجُمُعَةِ جمعہ کے احکام و مسائل

وحدثني ابو الطاهر ، وحرملة ، وعمرو بن سواد العامري ، قال ابو الطاهر : حدثنا، وقال الآخران: اخبرنا ابن وهب ، اخبرني يونس ، عن ابن شهاب ، اخبرني ابو عبد الله الاغر ، انه سمع ابا هريرة يقول: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " إذا كان يوم الجمعة كان على كل باب من ابواب المسجد ملائكة، يكتبون الاول فالاول، فإذا جلس الإمام طووا الصحف، وجاءوا يستمعون الذكر، ومثل المهجر كمثل الذي يهدي البدنة، ثم كالذي يهدي بقرة، ثم كالذي يهدي الكبش، ثم كالذي يهدي الدجاجة، ثم كالذي يهدي البيضة ".

‏‏‏‏ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب جمعہ کا دن ہوتا ہے ہر دروازہ پر مسجد کے دروازوں میں سے فرشتے لکھتے ہیں کہ فلاں سب سے پہلے آیا اس کے بعد وہ، اس کے بعد وہ، پھر جب امام منبر پر بیٹتا ہے سب فرشتے اعمال نامے لپیٹ دیتے ہیں اور خطبہ آ کر سننے لگتے ہیں ہیں۔ اور جو اول آیا اس کے ثواب کی مثل ایسی ہے، جیسے کوئی ایک اونٹ قربانی کرے۔ اس کے بعد جو آیا وہ ایسا ہے جیسے کوئی ایک گائے کرے۔ اس کے بعد جو آئے وہ ایسا ہے جیسے کوئی ایک مینڈھا کر لے۔ اس کے بعد جو آئے وہ ایسا ہے جیسے کوئی مرغی کرے۔ اس کے بعد جو آئے وہ ایسا ہے جیسے کوئی ایک انڈہ اللہ کی راہ میں دے۔

صحيح مسلم # 1984
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp