كِتَاب الْجُمُعَةِ جمعہ کے احکام و مسائل

وحدثنا قتيبة بن سعيد ، عن مالك بن انس فيما قرئ عليه، عن سمي مولى ابي بكر، عن ابي صالح السمان ، عن ابي هريرة ، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم، قال: " من اغتسل يوم الجمعة غسل الجنابة ثم راح، فكانما قرب بدنة، ومن راح في الساعة الثانية، فكانما قرب بقرة، ومن راح في الساعة الثالثة، فكانما قرب كبشا اقرن، ومن راح في الساعة الرابعة، فكانما قرب دجاجة، ومن راح في الساعة الخامسة، فكانما قرب بيضة، فإذا خرج الإمام، حضرت الملائكة يستمعون الذكر ".

‏‏‏‏ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو نہائے جمعہ کے دن جنابت سے (اس میں صاف اشارہ ہے کہ اپنی بی بی سے صحبت بھی کرے) پھر جائے یعنی اور گھڑی میں تو اس نے گویا ایک اونٹ کی قربانی کی۔ اور جو دوسری ساعت میں گیا اس نے گویا ایک گائے کی۔ اور جو تیسری ساعت میں گیا اس نے گویا ایک دنبہ کیا۔ اور جو چوتھی ساعت میں گیا اس نے گویا ایک مرغی کی۔ اور جو پانچویں ساعت میں گیا اس نے ایک انڈا قربان کیا۔ پھر جب امام نکل آیا (یعنی خطبہ پڑھنے لگا) تو فرشتے (یعنی حاضری نویس جو مسجد کے دروازے پر حاضری لکھتے تھے) وہ مسجد میں حاضر ہو گئے اور خطبہ سننے لگے۔ (غرض اس وقت جو آیا اس کی حاضری نہیں لکھی گئی اور آنے کے ثواب سے محروم رہا اگرچہ نماز کا ثواب پائے)۔

صحيح مسلم # 1964
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp