کتاب فَضَائِلِ الْقُرْآنِ وَمَا يَتَعَلَّقُ بِهِ قرآن کے فضائل اور متعلقہ امور

حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة ، حدثنا عفان ، حدثنا ابان بن يزيد ، حدثنا يحيى بن ابي كثير ، عن ابي سلمة ، عن جابر ، قال: اقبلنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم، حتى إذا كنا بذات الرقاع، قال: كنا إذا اتينا على شجرة ظليلة تركناها لرسول الله صلى الله عليه وسلم، قال: فجاء رجل من المشركين، وسيف رسول الله صلى الله عليه وسلم معلق بشجرة، فاخذ سيف نبي الله صلى الله عليه وسلم فاخترطه، فقال لرسول الله صلى الله عليه وسلم: اتخافني؟ قال: " لا "، قال: فمن يمنعك مني؟ قال: " الله يمنعني منك "، قال: فتهدده اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم، فاغمد السيف وعلقه، قال: فنودي بالصلاة فصلى بطائفة ركعتين، ثم تاخروا وصلى بالطائفة الاخرى ركعتين، قال: فكانت لرسول الله صلى الله عليه وسلم اربع ركعات، وللقوم ركعتان.

‏‏‏‏ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چلے یہاں تک کہ ہم ذات الرقاع تک پہنچے (رقاع ایک پہاڑی کا نام ہے) تو ہماری یہ چال تھی کہ ہم کسی سایہ دار درخت پر پہنچتے تو اس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے چھوڑ دیتے پھر ایک دن ایک مشرک آیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تلوار ایک درخت میں لٹکی ہوئی تھی اس نے تلوار لے کر میان سے نکال لی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ کیوں تم مجھ سے ڈرتے ہو۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں۔ اس نے کہا: کون تمہیں میرے ہاتھ سے بچا سکتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ مجھے بچا سکتا ہے تیرے ہاتھ سے۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے اس کو دھمکایا اور اس نے تلوار میان میں کر لی۔ اتنے میں اذان ہوئی نماز کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک گروہ کے ساتھ دو رکعت پڑھی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی چار رکعت ہوئی اور سب کی دو دو رکعت۔

صحيح مسلم # 1949
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp