وحدثنا ابو بكر بن ابي شيبة ، حدثنا يحيى بن آدم ، عن سفيان ، عن موسى بن عقبة ، عن نافع ، عن ابن عمر ، قال: " صلى رسول الله صلى الله عليه وسلم صلاة الخوف في بعض ايامه، فقامت طائفة معه وطائفة بإزاء العدو، فصلى بالذين معه ركعة، ثم ذهبوا وجاء الآخرون فصلى بهم ركعة، ثم قضت الطائفتان ركعة ركعة "، قال: وقال ابن عمر: " فإذا كان خوف اكثر من ذلك، فصل راكبا او قائما، تومئ إيماء ".
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز خوف پڑھی بعض دن اس طرح کہ ایک گروہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کھڑا ہوا اور ایک غنیم کے آگے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کے ساتھ ایک رکعت پڑھی پھر وہ لوگ غنیم کی طرف گئے اور دوسرے آئے اور ان کے ساتھ بھی ایک رکعت پڑھی۔ پھر دونوں گروہوں نے اپنی اپنی دوسری رکعت ادا کر لی۔ اور سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: جب خوف اس بھی زیادہ ہو تو سواری پر یا کھڑے کھڑے اشارہ سے پڑھو۔