وحدثنا وحدثنا شيبان بن فروخ ، حدثنا عبد الوارث ، عن عبد العزيز وهو ابن صهيب ، عن انس بن مالك ، قال: " كنا بالمدينة، فإذا اذن المؤذن لصلاة المغرب ابتدروا السواري، فيركعون ركعتين ركعتين، حتى إن الرجل الغريب ليدخل المسجد، فيحسب ان الصلاة قد صليت من كثرة من يصليهما ".
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ مدینہ میں ہم لوگوں کی عادت تھی کہ جب مؤذن مغرب کی اذان دیتا تھا سب لوگ ستونوں کی آڑ میں دوڑ کر دو رکعت پڑھتے تھے یہاں تک کی نیا آدمی اگر مسجد میں آتا تھا جانتا تھا کہ نماز ہو چکی (غرض اس کثرت سے لوگ ان رکعتوں کو پڑھتے تھے)۔