وحدثنا ابو بكر بن ابي شيبة ، وابو كريب ، جميعا، عن ابن فضيل ، قال ابو بكر : حدثنا محمد بن فضيل ، عن مختار بن فلفل ، قال: سالت انس بن مالك ، عن التطوع بعد العصر، فقال: " كان عمر يضرب الايدي على صلاة بعد العصر، وكنا نصلي على عهد النبي صلى الله عليه وسلم ركعتين بعد غروب الشمس قبل صلاة المغرب "، فقلت له: " اكان رسول الله صلى الله عليه وسلم صلاهما؟ " قال: " كان يرانا نصليهما فلم يامرنا ولم ينهنا ".
مختار بن فلفل نے کہا: میں نے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے ان نفلوں کے بارے میں پوچھا جو عصر کے بعد پڑھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ہاتھ مارتے تھے نماز پر جو لوگ بعد عصر کے پڑھتے تھے اور ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں دو رکعت پڑھتے تھے بعد غروب آفتاب کے نماز مغرب سے پہلے، سو میں نے ان سے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی یہ دو رکعتیں پڑھا کرتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ہم کو پڑھتے ہوئے دیکھا کرتے تھے اور نہ اس کا حکم کرتے (یعنی بطریق وجوب کے) اور نہ اس سے منع فرماتے تھے۔