کتاب فَضَائِلِ الْقُرْآنِ وَمَا يَتَعَلَّقُ بِهِ قرآن کے فضائل اور متعلقہ امور

حدثنا علي بن حجر السعدي ، حدثنا إسماعيل بن إبراهيم ، عن داود بن ابي هند ، عن الشعبي ، عن علقمة ، قال: لقيت ابا الدرداء ، فقال لي: ممن انت؟ قلت: من اهل العراق، قال: من ايهم؟ قلت: من اهل الكوفة، قال: هل تقرا على قراءة عبد الله بن مسعود؟ قال: قلت: نعم، قال: " فاقرا والليل إذا يغشى سورة الليل آية 1، قال: فقرات 0 والليل إذا يغشى والنهار إذا تجلى والذكر والانثى 0، قال: فضحك، ثم قال: هكذا سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقرؤها ".

‏‏‏‏ سیدنا علقمہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں ابوالدرداء رضی اللہ عنہ سے ملا۔ انہوں نے کہا: تم کہاں کے ہو؟ میں نے کہا: عراق کا۔ انہوں نے کہا: کس شہر کے؟ میں نے کہا: کوفہ کا۔ انہوں نے کہا: تم سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی قرأت پڑھتے ہو؟ میں نے کہا: والیل تو پڑھو۔ میں نے «وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَى» پڑھا تو ہنس دیئے اور کہا: میں نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسا ہی پڑھتے ہوئے سنا ہے۔

صحيح مسلم # 1918
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp