حدثنا علي بن حجر السعدي ، حدثنا إسماعيل بن إبراهيم ، عن داود بن ابي هند ، عن الشعبي ، عن علقمة ، قال: لقيت ابا الدرداء ، فقال لي: ممن انت؟ قلت: من اهل العراق، قال: من ايهم؟ قلت: من اهل الكوفة، قال: هل تقرا على قراءة عبد الله بن مسعود؟ قال: قلت: نعم، قال: " فاقرا والليل إذا يغشى سورة الليل آية 1، قال: فقرات 0 والليل إذا يغشى والنهار إذا تجلى والذكر والانثى 0، قال: فضحك، ثم قال: هكذا سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقرؤها ".
سیدنا علقمہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں ابوالدرداء رضی اللہ عنہ سے ملا۔ انہوں نے کہا: تم کہاں کے ہو؟ میں نے کہا: عراق کا۔ انہوں نے کہا: کس شہر کے؟ میں نے کہا: کوفہ کا۔ انہوں نے کہا: تم سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی قرأت پڑھتے ہو؟ میں نے کہا: والیل تو پڑھو۔ میں نے «وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَى» پڑھا تو ہنس دیئے اور کہا: میں نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسا ہی پڑھتے ہوئے سنا ہے۔