کتاب فَضَائِلِ الْقُرْآنِ وَمَا يَتَعَلَّقُ بِهِ قرآن کے فضائل اور متعلقہ امور

وحدثنا ابو بكر بن ابي شيبة ، وابو كريب واللفظ لابي بكر، قالا: حدثنا ابو معاوية ، عن الاعمش ، عن إبراهيم ، عن علقمة ، قال: قدمنا الشام، فاتانا ابو الدرداء ، فقال: " افيكم احد يقرا على قراءة عبد الله؟ فقلت: نعم، انا، قال: " فكيف سمعت عبد الله يقرا هذه الآية والليل إذا يغشى سورة الليل آية 1؟ قال: سمعته يقرا 0 والليل إذا يغشى والذكر والانثى 0، قال: وانا والله هكذا سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقرؤها، ولكن هؤلاء يريدون ان اقرا، وما خلق فلا اتابعهم ".

‏‏‏‏ سیدنا علقمہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ہم شام کو گئے تو سیدنا ابوالدرداء رضی اللہ عنہ ہمارے پاس آئے اور کہا تم میں کوئی عبداللہ کی قرأت پڑھنے والا ہے؟ میں نے کہا: ہاں میں ہی ہوں۔ انہوں نے کہا: کیونکر سنا تم نے اس آیت کو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کو پڑھتے ہوئے؟ «وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَى» میں نے کہا: سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ پڑھتے تھے «وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَى وَالذَّكَرِ وَالأُنْثَى» انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! میں نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یونہی پڑھے سنا ہے اور یہاں کے لوگ چاہتے ہیں کہ میں پڑھوں «وَمَا خَلَقَ وَالذَّكَرِ وَالأُنْثَى» تو میں ان کی نہیں مانتا۔

صحيح مسلم # 1916
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp