کتاب فَضَائِلِ الْقُرْآنِ وَمَا يَتَعَلَّقُ بِهِ قرآن کے فضائل اور متعلقہ امور

وحدثنا ابو بكر بن ابي شيبة ، حدثنا غندر ، عن شعبة . ح وحدثناه ابن المثنى ، وابن بشار ، قال ابن المثنى: حدثنا محمد بن جعفر ، حدثنا شعبة ، عن الحكم ، عن مجاهد ، عن ابن ابي ليلى ، عن ابي بن كعب ، ان النبي صلى الله عليه وسلم، كان عند اضاة بني غفار، قال: " فاتاه جبريل عليه السلام، فقال: " إن الله يامرك، ان تقرا امتك القرآن على حرف، فقال: اسال الله، معافاته، ومغفرته، وإن امتي لا تطيق ذلك، ثم اتاه الثانية، فقال: إن الله يامرك، ان تقرا امتك القرآن على حرفين، فقال: اسال الله، معافاته، ومغفرته، وإن امتي لا تطيق ذلك، ثم جاءه الثالثة، فقال: إن الله يامرك، ان تقرا امتك القرآن على ثلاثة احرف، فقال: اسال الله، معافاته، ومغفرته، وإن امتي لا تطيق ذلك، ثم جاءه الرابعة، فقال: إن الله يامرك، ان تقرا امتك القرآن على سبعة احرف، فايما حرف قرءوا عليه، فقد اصابوا ".

‏‏‏‏ سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بنی غفار کے تالاب پر تھے۔ ان کے پاس جبرئیل علیہ السلام تشریف لائے اور کہا کہ اللہ تعالیٰ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم کرتا ہے کہ اپنی امت کو ایک حرف پر قرآن پڑھائیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں اللہ سے اس کی معافی اور بخشش چاہتا ہوں اور میری امت اس کی طاقت نہ رکھے گی۔ پھر دوبارہ ان کے پاس آئے اور کہا: بے شک اللہ تعالیٰ حکم کرتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی امت کو دو حرفوں پر قرآن پڑھائیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عرض کیا: میں اللہ تعالیٰ سے اس کی عفو اور بخشش چاہتا ہوں اور میری امت سے یہ نہ ہو سکے گا۔ پھر تیسری بار آئے اور کہا کہ اللہ تعالیٰ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم فرماتا ہے کہ اپنی امت کو تین حرفوں میں قرآن پڑھائیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عرض کیا: کہ میں اللہ تعالیٰ سے اس کا عفو اور اس کی بخشش چاہتا ہوں اور میری امت سے یہ نہ ہو سکے گا۔ پھر وہ چوتھی بار آئے اور کہا کہ بیشک اللہ تعالیٰ حکم فرماتا ہے کہ اپنی امت کو قرآن سات حرفوں پر پڑھائیں اور ان حرفوں میں سے جس حرف پر پڑھیں گے وہ ٹھیک ہو گا۔

صحيح مسلم # 1906
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp