کتاب فَضَائِلِ الْقُرْآنِ وَمَا يَتَعَلَّقُ بِهِ قرآن کے فضائل اور متعلقہ امور

حدثنا حسن بن الربيع ، واحمد بن جواس الحنفي ، قالا: حدثنا ابو الاحوص ، عن عمار بن رزيق ، عن عبد الله بن عيسى ، عن سعيد بن جبير ، عن ابن عباس ، قال: بينما جبريل قاعد عند النبي صلى الله عليه وسلم، سمع نقيضا من فوقه، فرفع راسه، فقال: هذا باب من السماء، فتح اليوم، لم يفتح قط إلا اليوم، فنزل منه ملك، فقال: هذا ملك نزل إلى الارض، لم ينزل قط إلا اليوم، فسلم، وقال: " ابشر بنورين اوتيتهما لم يؤتهما نبي قبلك، فاتحة الكتاب وخواتيم سورة البقرة، لن تقرا بحرف منهما إلا اعطيته ".

‏‏‏‏ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ ایک دن جبرئیل علیہ السلام نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک آواز بڑے زور کی سنی دروازہ کھلنے کی اور اپنا سر اٹھایا۔ اور جبرئیل علیہ السلام نے کہا کہ یہ ایک دروازہ ہے آسمان کا کہ آج کھلا ہے اور کھبی نہیں کھلا تھا مگر آج کے دن پھر اس سے ایک فرشتہ اترا۔ اور جبرئیل علیہ السلام نے کہا کہ یہ فرشتہ جو زمین پر اترا ہے کبھی نہیں اترا سوائے آج کے۔ اور اس نے سلام کیا اور کہا خوشخبری ہو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دو نوروں کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو عنایت ہوئے ہیں اور نبیوں میں سے کسی نبی کو نہیں ملے، سوائے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے، ایک سورۂ فاتحہ ہے اور دوسرے سورۂ بقرہ کا خاتمہ۔ کوئی حرف اس میں سے تم نہ پڑھو گے کہ اس کی مانگی ہوئی چیز تمہیں نہ ملے۔

صحيح مسلم # 1877
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp