وحدثنا ابو بكر بن ابي شيبة ، حدثنا الفضل بن دكين ، عن موسى بن علي ، قال: سمعت ابي يحدث، عن عقبة بن عامر ، قال: خرج رسول الله صلى الله عليه وسلم، ونحن في الصفة، فقال: ايكم يحب ان يغدو كل يوم إلى بطحان، او إلى العقيق فياتي منه بناقتين كوماوين، في غير إثم، ولا قطع رحم؟ فقلنا: يا رسول الله، نحب ذلك، قال: " افلا يغدو احدكم إلى المسجد فيعلم، او يقرا آيتين من كتاب الله عز وجل، خير له من ناقتين، وثلاث خير له من ثلاث، واربع خير له من اربع، ومن اعدادهن من الإبل؟ ".
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نکلے اور ہم لوگ دیوان خانہ میں تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کون چاہتا ہے کہ روز صبح کو بطحان یا عقیق کو جائے؟ (یہ دونوں بازار تھے مدینہ میں) اور وہاں سے دو اوٹنیاں بڑے بڑے کوہان کی لائے بغیر کسی گناہ کے اور بغیر اس کے کہ کسی ناتہ دار کی حق تلفی کرے۔“ تو ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ! ہم سب اس کو چاہتے ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر کیوں نہیں جاتا تم میں سے ہر ایک شخص مسجد کو اور کیوں نہیں سکھاتا یا نہیں پڑھتا دو آیتیں اللہ کی کتاب کی جو بہتر ہوں اس کے لئے دو اونٹنیوں سے اور تین بہتر ہیں تین اونٹنیوں سے اور چار بہتر ہیں چار اونٹنیوں سے اور اسی طرح جتنی آیتیں ہوں اتنی اونٹنیوں سے بہتر ہیں۔“