حدثنا عثمان بن ابي شيبة ، حدثنا جرير ، عن الاعمش ، عن إبراهيم ، عن علقمة ، عن عبد الله ، قال: كنت بحمص، فقال لي بعض القوم " اقرا علينا، فقرات عليهم سورة يوسف، قال: فقال رجل من القوم: والله ما هكذا انزلت، قال: قلت: ويحك والله، لقد قراتها على رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقال لي: احسنت فبينما انا اكلمه إذ وجدت منه ريح الخمر؟ قال: فقلت: اتشرب الخمر، وتكذب بالكتاب، لا تبرح حتى اجلدك، قال: فجلدته الحد ".
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں حمص میں تھا مجھ سے لوگوں نے کہا: ہم کو قرآن سناؤ۔ میں نے سورۂ یوسف پڑھی۔ سو ایک شخص نے کہا: اللہ کی قسم! ایسا نہیں اترا۔ میں نے کہا: تیری خرابی ہو۔ اللہ کی قسم! میں نے تو یہ سورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے پڑھی ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”خوب پڑھا۔“ عرض میں اس سے بات کر ہی رہا تھا کہ شراب کی بو اس کی طرف سے آئی تو میں نے کہا: تو شراب پیتا ہے اور اللہ کی کتاب کو جھٹلاتا ہے تو جانے نہ پائے گا جب تک میں تجھے حد نہ مارلوں گا پھر میں نے اس کو کوڑے مارے۔