وحدثنا ابو بكر بن ابي شيبة ، وابو كريب ، قالا: حدثنا ابو اسامة ، حدثني مسعر ، وقال ابو كريب: عن مسعر ، عن عمرو بن مرة ، عن إبراهيم ، قال: قال النبي صلى الله عليه وسلم لعبد الله بن مسعود : " اقرا علي، قال: اقرا عليك، وعليك انزل؟ قال: إني احب ان اسمعه من غيري، قال: فقرا عليه من اول سورة النساء إلى قوله فكيف إذا جئنا من كل امة بشهيد وجئنا بك على هؤلاء شهيدا سورة النساء آية 41 فبكى "، قال مسعر : فحدثني معن ، عن جعفر بن عمرو بن حريث ، عن ابيه ، عن ابن مسعود ، قال: قال: النبي صلى الله عليه وسلم، شهيدا عليهم ما دمت فيهم، او ما كنت فيهم شك مسعر.
ابراہیم نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”تم میرے آگے قرآن پڑھو۔“ انہوں نے عرض کیا کہ میں آپ کے آگے پڑھوں اور آپ پر اترا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ”میں چاہتا ہوں کہ اس کو دوسرے سے سنوں۔“ غرض سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے سورۂ نساء کے شروع سے پڑھا اس آیت تک «فَكَيْفَ إِذَا جِئْنَا مِنْ كُلِّ أُمَّةٍ بِشَهِيدٍ وَجِئْنَا بِكَ عَلَى هَؤُلاَءِ شَهِيدًا» اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم روئے۔ مسعر نے کہا: روایت کی مجھ سے معن نے، ان سے جعفر نے، ان سے ان کے باپ نے، ان سے سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں امت کے حال سے واقف تھا جب تک ان میں تھا۔“ (یعنی زندہ تھا) مسعر کو شک ہے کہ «كُنْتُ» کہا یا «دُمْتُ» کہا معنی دونوں کے ایک ہیں۔