کتاب فَضَائِلِ الْقُرْآنِ وَمَا يَتَعَلَّقُ بِهِ قرآن کے فضائل اور متعلقہ امور

وحدثني حسن بن علي الحلواني ، وحجاج بن الشاعر وتقاربا في اللفظ، قالا: حدثنا يعقوب بن إبراهيم ، حدثنا ابي ، حدثنا يزيد بن الهاد ، ان عبد الله بن خباب ، حدثه، ان ابا سعيد الخدري حدثه، ان اسيد بن حضير بينما هو ليلة يقرا في مربده إذ جالت فرسه فقرا، ثم جالت اخرى فقرا، ثم جالت ايضا، قال اسيد: فخشيت ان تطا يحيى، فقمت إليها، فإذا مثل الظلة فوق راسي، فيها امثال السرج عرجت في الجو حتى ما اراها، قال: فغدوت على رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقلت: يا رسول الله، بينما انا البارحة من جوف الليل اقرا في مربدي، إذ جالت فرسي، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: اقرا ابن حضير، قال: فقرات، ثم جالت ايضا، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: اقرا ابن حضير، قال: فقرات، ثم جالت ايضا، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: اقرا ابن حضير، قال: فانصرفت، وكان يحيى قريبا منها، خشيت ان تطاه، فرايت مثل الظلة فيها امثال السرج، عرجت في الجو حتى ما اراها، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " تلك الملائكة كانت تستمع لك، ولو قرات لاصبحت يراها الناس ما تستتر منهم ".

‏‏‏‏ سیدنا اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ اپنی کھجور کے کھلیان میں ایک شب قرآن پڑھتے تھے کہ ان کا گھوڑا کودنے لگا اور وہ پڑھتے جاتے تھے اور پھر وہ کودتا تھا پھر وہ پڑھنے لگے پھر وہ کودنے لگا تو انہوں نے کہا کہ میں ڈرا کہ کہیں یحییٰ کو کچل نہ ڈالے۔ سو میں اس کے پاس جا کھڑا ہوا۔ اور دیکھتا ہوں کہ ایک سائبان سا میرے سر پر ہے کہ اس میں چراغ سے روشن ہیں اور وہ اوپر کو چڑھ گیا یہاں تک کہ میں نے اس کو پھر نہ دیکھا۔ پھر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں صبح کو حاضر ہوا اور عرض کیا یا رسول اللہ! میں شب کو اپنے کھلیان میں قرآن پڑھتا تھا کہ یک بارگی میرا گھوڑا کودنے لگا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پڑھے جا، اے ابن حضیر! انہوں نے عرض کیا کہ میں پڑھے گیا پھر وہ کودنے لگا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پڑھے جا، اے ابن حضیر! انہوں نے کہا کہ میں پڑھے گیا۔ پھر وہ ایسا ہی کودنے لگا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پڑھے جا، اے ابن حضیر! انہوں نے کہا: جب میں فارغ ہوا اور یحییٰ گھوڑے کے پاس تھا تو مجھے خوف ہوا کہ کہیں یحییٰ کو کچل نہ ڈالے اور میں نے دیکھا ایک سائبان سا کہ اس میں چراغ سے روشن تھے اور وہ اوپر کو چڑھ گیا یہاں تک کہ میں اسے نہ دیکھتا تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ فرشتے تھے کہ تمہاری قرأت سنتے تھے۔ اور اگر تم پڑھتے جاتے تو صبح کرتے اس طرح کہ لوگ ان (فرشتوں) کو دیکھتے اور وہ ان کی نظر سے پوشیدہ نہ رہتے۔

صحيح مسلم # 1859
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp