حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة ، وابو كريب ، قالا: حدثنا ابو اسامة ، عن هشام بن عروة . ح وحدثني زهير بن حرب واللفظ له، حدثنا يحيى بن سعيد ، عن هشام ، قال: اخبرني ابي ، عن عائشة ، قالت: دخل علي رسول الله صلى الله عليه وسلم وعندي امراة، فقال: من هذه؟ فقلت: امراة لا تنام، تصلي، قال: " عليكم من العمل ما تطيقون، فوالله لا يمل الله حتى تملوا، وكان احب الدين إليه ما داوم عليه صاحبه "، وفي حديث ابي اسامة: انها امراة من بني اسد.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے اور میرے پاس ایک عورت بیٹھی ہوئی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”یہ کون ہے؟“ میں نے کہا: یہ ایسی عورت ہے جو سوتی نہیں اور نماز پڑھتی رہتی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عمل اتنا کرو جتنی تم کو طاقت ہو۔ قسم ہے اللہ کی کہ اللہ ثواب دینے سے نہیں تھکے گا اور تم تھک جاؤ گے۔“ اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دین کی عبادتوں میں سے وہی پسند تھی جو ہمیشہ ہو اور ابواسامہ کی روایت میں یہ ہے کہ بنی اسد کے قبیلہ کئ ایک عورت ہے۔