وحدثنا قتيبة بن سعيد ، حدثنا ليث ، عن عقيل ، عن الزهري ، عن علي بن حسين ، ان الحسين بن علي حدثه، عن علي بن ابي طالب ، ان النبي صلى الله عليه وسلم طرقه، وفاطمة، فقال: " الا تصلون؟ فقلت: يا رسول الله، إنما انفسنا بيد الله، فإذا شاء ان يبعثنا بعثنا، فانصرف رسول الله صلى الله عليه وسلم حين قلت له ذلك، ثم سمعته وهو مدبر يضرب فخذه، ويقول: وكان الإنسان اكثر شيء جدلا ".
سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک بار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو دیکھنے کے لئے یوں ہی تشریف لے گئے اور فرمایا: ”تم لوگ نماز نہیں پرھتے۔“ (یعنی تہجد) تو میں نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول! ہماری جانیں اللہ کے ہاتھ میں ہیں وہ جب چاہتا ہے ہمیں چھوڑتا ہے۔ جب میں نے یہ کہا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوٹ گئے۔ اور میں نے سنا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ران پر ہاتھ مارتے تھے (یہ عرب کا قاعدہ ہے کہ افسوس کے وقت) اور فرماتے تھے: «وَكَانَ الإِنْسَانُ أَكْثَرَ شَىْءٍ جَدَلاً» ”انسان سب چیزوں سے زیادہ جھگڑالو ہے۔“