كِتَاب صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا مسافروں کی نماز اور قصر کے احکام

حدثنا محمد بن ابي بكر المقدمي ، حدثنا يوسف الماجشون ، حدثني ابي ، عن عبد الرحمن الاعرج ، عن عبيد الله بن ابي رافع ، عن علي بن ابي طالب ، عن رسول الله صلى الله عليه وسلم، انه كان إذا قام إلى الصلاة، قال: " وجهت وجهي للذي فطر السماوات والارض حنيفا وما انا من المشركين، إن صلاتي، ونسكي، ومحياي، ومماتي، لله رب العالمين، لا شريك له، وبذلك امرت وانا من المسلمين، اللهم انت الملك، لا إله إلا انت، انت ربي وانا عبدك، ظلمت نفسي، واعترفت بذنبي، فاغفر لي ذنوبي جميعا، إنه لا يغفر الذنوب إلا انت، واهدني لاحسن الاخلاق، لا يهدي لاحسنها إلا انت، واصرف عني سيئها، لا يصرف عني سيئها إلا انت، لبيك وسعديك، والخير كله في يديك، والشر ليس إليك، انا بك، وإليك تباركت وتعاليت، استغفرك واتوب إليك، وإذا ركع، قال: اللهم لك ركعت، وبك آمنت، ولك اسلمت، خشع لك سمعي، وبصري، ومخي، وعظمي، وعصبي، وإذا رفع، قال: اللهم ربنا لك الحمد، ملء السماوات، وملء الارض، وملء ما بينهما، وملء ما شئت من شيء بعد، وإذا سجد، قال: اللهم لك سجدت، وبك آمنت، ولك اسلمت، سجد وجهي للذي خلقه وصوره وشق سمعه وبصره، تبارك الله احسن الخالقين، ثم يكون من آخر ما يقول بين التشهد والتسليم: اللهم اغفر لي ما قدمت وما اخرت، وما اسررت وما اعلنت، وما اسرفت وما انت اعلم به مني، انت المقدم، وانت المؤخر، لا إله إلا انت "،

‏‏‏‏ سیدنا علی مرتضیٰ بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز میں کھڑے ہوتے تو پڑھتے «‏‏‏‏وَجَّهْتُ وَجْهِىَ لِلَّذِى فَطَرَ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضَ حَنِيفًا وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ إِنَّ صَلاَتِى وَنُسُكِى وَمَحْيَاىَ وَمَمَاتِى لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ لاَ شَرِيكَ لَهُ وَبِذَلِكَ أُمِرْتُ وَأَنَا مِنَ الْمُسْلِمِينَ اللَّهُمَّ أَنْتَ الْمَلِكُ لاَ إِلَهَ إِلاَّ أَنْتَ. أَنْتَ رَبِّى وَأَنَا عَبْدُكَ ظَلَمْتُ نَفْسِى وَاعْتَرَفْتُ بِذَنْبِى فَاغْفِرْ لِى ذُنُوبِى جَمِيعًا إِنَّهُ لاَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلاَّ أَنْتَ وَاهْدِنِى لأَحْسَنِ الأَخْلاَقِ لاَ يَهْدِى لأَحْسَنِهَا إِلاَّ أَنْتَ وَاصْرِفْ عَنِّى سَيِّئَهَا لاَ يَصْرِفُ عَنِّى سَيِّئَهَا إِلاَّ أَنْتَ لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ وَالْخَيْرُ كُلُّهُ فِى يَدَيْكَ وَالشَّرُّ لَيْسَ إِلَيْكَ أَنَا بِكَ وَإِلَيْكَ تَبَارَكْتَ وَتَعَالَيْتَ أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ» یعنی میں نے اپنا منہ اس کی طرف کیا جس نے آسمان و زمین بنایا ایک طرف کا ہو کر اور میں مشرکوں میں سے نہیں ہوں اور مسلمانوں میں سے ہوں۔ یااللہ! تو بادشاہ ہے کوئی معبود نہیں مگر تو، تو میرا پالنے والا ہے اور میں تیرا غلام ہوں۔ میں نے اپنی جان پر ظلم کیا اور اپنے گناہوں کا اقرار کیا، سو میرے سب گناہوں کو بخش دے اس لیے کہ گناہوں کو کوئی نہیں بخشتا مگر تو اور سکھا دے مجھ کو اچھی عادتیں کہ نہیں سکھاتا ان کو مگر تو اور دور رکھ مجھ سے بری عادتیں نہیں دور رکھ سکتا ان کو مگر تو، میں تیری بارگاہ میں حاضر ہوں اور تیرا فرمانبردار ہوں اور ساری خوبی تیرے ہاتھوں میں ہے اور شر سے تیری طرف نزدیکی حاصل نہیں ہو سکتی (یا شر اکیلا تیری طرف منسوب نہیں ہوتا مثلاً «خالق القردة و الخنازير» نہیں کہا جاتا، یا «يا رب الشر» نہیں کہا جاتا یا شر تیری طرف نہیں چڑھتا جیسے کلمہ طیب اور عمل صالح چڑھتے ہیں یا کوئی مخلوق تیرے واسطے شر نہیں اگرچہ ہمارے لیے شر ہو کیوں کہ ہم بشر ہیں اس لیے کہ ہر چیز کو تو نے حکمت کے ساتھ بنایا ہے) میری توفیق تیری طرف سے ہے اور میری التجا تیری طرف ہے تو بڑی برکت والا ہے اور بلند ذات والا ہے۔ میں تجھ سے مغفرت مانگتا ہوں اور تیری طرف جھکتا ہوں اور جب رکوع کرتے تو پڑھتے «اللَّهُمَّ لَكَ رَكَعْتُ وَبِكَ آمَنْتُ وَلَكَ أَسْلَمْتُ خَشَعَ لَكَ سَمْعِى وَبَصَرِى وَمُخِّى وَعَظْمِى وَعَصَبِى» یعنی یا اللہ! میں تیرے لیے جھکتا ہوں اور تجھ پر یقین رکھتا ہوں اور تیرا فرمانبردار ہوں۔ جھک گئے تیرے لیے میرے کان اور میری آنکھیں اور میرا مغز اور میری ہڈیاں اور میرے پٹھے۔ اور جب سر اٹھاتے تو پڑھتے «اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ مِلْءَ السَّمَوَاتِ وَمِلْءَ الأَرْضِ وَمِلْءَ مَا بَيْنَهُمَا وَمِلْءَ مَا شِئْتَ مِنْ شَىْءٍ بَعْدُ» یعنی یااللہ! اے ہمارے پروردگار! حمد تیرے ہی لیے ہے آسمانوں بھر اور زمین بھر اور ان کے درمیان بھر اور اس کے بعد جتنا تو چاہے اس بھر اور جب سجدہ کرتے تو كہتے «اللَّهُمَّ لَكَ سَجَدْتُ وَبِكَ آمَنْتُ وَلَكَ أَسْلَمْتُ سَجَدَ وَجْهِى لِلَّذِى خَلَقَهُ وَصَوَّرَهُ وَشَقَّ سَمْعَهُ وَبَصَرَهُ تَبَارَكَ اللَّهُ أَحْسَنُ الْخَالِقِينَ» یعنی اے اللہ!! میں نے تیرے لیے ہی سجدہ کیا ور تجھ پر یقین لایا اور میں تیرا فرمانبردار ہوں۔ میرے منہ نے اس کے لیے سجدہ کیا جس نے اسے بنایا ہے اور تصویر کھینچی ہے اور اس کے کان اور آنکھوں کو چیرا، بڑی برکت والا ہے سب بنانے والوں سے اچھا۔ پھر آخر میں تشہد اور سلام کے بیچ میں کہتے «اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِى مَا قَدَّمْتُ وَمَا أَخَّرْتُ وَمَا أَسْرَرْتُ وَمَا أَعْلَنْتُ وَمَا أَسْرَفْتُ وَمَا أَنْتَ أَعْلَمُ بِهِ مِنِّى أَنْتَ الْمُقَدِّمُ وَأَنْتَ الْمُؤَخِّرُ لاَ إِلَهَ إِلاَّ أَنْتَ» یعنی یا اللہ! بخش مجھ کو جو میں نے آگے کیا اور جو میں نے پیچھے کیا اور جو چھپایا اور جو ظاہر کیا اور جو حد سے زیادہ کیا جو تو جانتا ہے مجھ سے بڑھ کر، تو سب سے پہلے تھا اور سب کے بعد رہے گا تیرے سوا کوئی معبود نہیں۔

صحيح مسلم # 1812
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp