كِتَاب صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا مسافروں کی نماز اور قصر کے احکام

وحدثني حجاج بن الشاعر ، حدثني محمد بن جعفر المدائني ابو جعفر ، حدثنا ورقاء ، عن محمد بن المنكدر ، عن جابر بن عبد الله ، قال: كنت مع رسول الله صلى الله عليه وسلم في سفر، فانتهينا إلى مشرعة، فقال: الا تشرع يا جابر؟ قلت: بلى، قال: فنزل رسول الله صلى الله عليه وسلم، واشرعت، قال: ثم ذهب لحاجته، ووضعت له وضوءا، قال: " فجاء فتوضا، ثم قام فصلى في ثوب واحد خالف بين طرفيه، فقمت خلفه، فاخذ باذني فجعلني عن يمينه ".

‏‏‏‏ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھا اور ہم ایک گھاٹ پر پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے جابر! تم پار ہوتے ہو؟ میں نے کہا: ہاں، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پار اترے اور میں بھی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم پاخانے گئے اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے وضو کا پانی رکھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آ کر وضو کیا اور پھر کھڑے ہو گئے اور ایک کپڑا اوڑھے نماز پڑھتے رہے جس کے داہنے کنارے کو بائیں طرف اور بائیں کو داہنی طرف ڈال دیا تھا اور میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے کھڑا ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا کان پکڑ کے داہنی طرف کر لیا۔

صحيح مسلم # 1805
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp