كِتَاب صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا مسافروں کی نماز اور قصر کے احکام

وحدثني ابو الطاهر ، حدثنا ابن وهب ، عن عبد الرحمن بن سلمان الحجري ، عن عقيل بن خالد ، ان سلمة بن كهيل حدثه، ان كريبا حدثه، ان ابن عباس بات ليلة عند رسول الله صلى الله عليه وسلم، قال: فقام رسول الله صلى الله عليه وسلم إلى القربة فسكب منها، فتوضا ولم يكثر من الماء ولم يقصر في الوضوء، وساق الحديث، وفيه قال: ودعا رسول الله صلى الله عليه وسلم ليلتئذ تسع عشرة كلمة، قال سلمة: حدثنيها كريب، فحفظت منها ثنتي عشرة ونسيت ما بقي، قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " اللهم اجعل لي في قلبي نورا، وفي لساني نورا، وفي سمعي نورا، وفي بصري نورا، ومن فوقي نورا، ومن تحتي نورا، وعن يميني نورا، وعن شمالي نورا، ومن بين يدي نورا، ومن خلفي نورا، واجعل في نفسي نورا، واعظم لي نورا ".

‏‏‏‏ کریب نے روایت کی کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس رہے اور کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے اور مشک کے پاس گئے اور اس کو جھکایا اور اس سے وضو کیا اور پانی بہت نہیں بہایا اور وضو میں کچھ کمی بھی نہیں کی۔ اور حدیث بیان کی اور اس میں یہ بھی کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس رات انیس کلموں سے دعا کی۔ سلمہ نے کہا کہ مجھ سے (وہ کلمات) کریب نے بیان کیے تھے مگر مجھے اس میں سے بارہ یاد رہے اور باقی بھول گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے: «اللَّهُمَّ اجْعَلْ لِى فِى قَلْبِى نُورًا وَفِى لِسَانِى نُورًا وَفِى سَمْعِى نُورًا وَفِى بَصَرِى نُورًا وَمِنْ فَوْقِى نُورًا وَمِنْ تَحْتِى نُورًا وَعَنْ يَمِينِى نُورًا وَعَنْ شِمَالِى نُورًا وَمِنْ بَيْنِ يَدَىَّ نُورًا وَمِنْ خَلْفِى نُورًا وَاجْعَلْ فِى نَفْسِى نُورًا وَأَعْظِمْ لِى نُورًا» یا اللہ! کر دے میرے دل میں نور اور میری زبان میں نور اور میرے کان میں نور اور میرے اوپر نور اور میرے نیچے نور اور داہنے اور بائیں نور اور آگے نور اور پیچھے نور اور کر دے میری ذات میں نور اور زیادہ دے مجھے نور۔

صحيح مسلم # 1797
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp