كِتَاب صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا مسافروں کی نماز اور قصر کے احکام

حدثنا محمد بن بشار ، حدثنا محمد وهو ابن جعفر ، حدثنا شعبة ، عن سلمة ، عن كريب ، عن ابن عباس ، قال: بت في بيت خالتي ميمونة، فبقيت كيف يصلي رسول الله صلى الله عليه وسلم، قال: فقام فبال، ثم غسل وجهه وكفيه، ثم نام، ثم قام إلى القربة فاطلق شناقها، ثم صب في الجفنة او القصعة فاكبه بيده عليها، ثم توضا وضوءا حسنا بين الوضوءين، ثم قام يصلي، فجئت فقمت إلى جنبه فقمت عن يساره، قال: فاخذني فاقامني عن يمينه، فتكاملت صلاة رسول الله صلى الله عليه وسلم ثلاث عشرة ركعة، ثم نام حتى نفخ، وكنا نعرفه إذا نام بنفخه، ثم خرج إلى الصلاة فصلى فجعل يقول في صلاته او في سجوده: " اللهم اجعل في قلبي نورا، وفي سمعي نورا، وفي بصري نورا، وعن يميني نورا، وعن شمالي نورا، وامامي نورا، وخلفي نورا، وفوقي نورا، وتحتي نورا، واجعل لي نورا، او قال واجعلني نورا ".

‏‏‏‏ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ میں ایک رات اپنی خالہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے گھر رہا اور خیال کرتا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیوں کر نماز پڑھتے ہیں۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے اور پیشاب کیا اور منہ دھویا اور دونوں ہتھیلیاں دھوئیں۔ پھر سو رہے، پھر اٹھے اور مشک کے پاس گئے اور اس کا بندھن کھولا اور لگن یا بڑے پیالے میں پانی ڈالا اور اس کو اپنے ہاتھ سے جھکایا اور وضو کیا بہت اچھا دو وضوؤں کے بیچ کا (یعنی نہ بہت ہلکا، نہ مبالغہ کا) پھر کھڑے ہوئے نماز پڑھنے لگے پھر میں بھی آیا (یعنی وضو کر کے) اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بائیں بازو کی طرف کھڑا ہوا تو مجھ کو پکڑا اور داہنی طرف کھڑا کیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پوری نماز تیرہ رکعت ہوئی۔ پھر سو گئے یہاں تک کہ خراٹے لینے لگے اور ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سو جانے کو خراٹے ہی سے پہچانتے تھے پھر نماز کو نکلے اور نماز پڑھی اور اپنی نماز یا سجدہ میں کہتے تھے: «اللَّهُمَّ اجْعَلْ فِى قَلْبِى نُورًا وَفِى سَمْعِى نُورًا وَفِى بَصَرِى نُورًا وَعَنْ يَمِينِى نُورًا وَعَنْ شِمَالِى نُورًا وَأَمَامِى نُورًا وَخَلْفِى نُورًا وَفَوْقِى نُورًا وَتَحْتِى نُورًا وَاجْعَلْ لِى نُورًا أَوْ قَالَ وَاجْعَلْنِى نُورًا» یا اللہ! کر دے میرے دل میں نور اور میرے کان میں نور اور میری آنکھ میں نور اور میرے داہنے نور اور میرے بائیں نور اور میرے آگے نور اور میرے پیچھے نور اور میرے اوپر نور اور میرے نیچے نور اور کر دے میرے لیے نور یا کہتے تھے: مجھے نور کر دے۔

صحيح مسلم # 1794
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp