حدثني عبد الله بن هاشم بن حيان العبدي ، حدثنا عبد الرحمن يعني ابن مهدي ، حدثنا سفيان ، عن سلمة بن كهيل ، عن كريب ، عن ابن عباس ، قال: بت ليلة عند خالتي ميمونة، فقام النبي صلى الله عليه وسلم من الليل فاتى حاجته، ثم غسل وجهه ويديه، ثم نام، ثم قام فاتى القربة فاطلق شناقها، ثم توضا وضوءا بين الوضوءين ولم يكثر وقد ابلغ، ثم قام فصلى، فقمت فتمطيت كراهية ان يرى، اني كنت انتبه له فتوضات فقام فصلى، فقمت عن يساره فاخذ بيدي فادارني عن يمينه، فتتامت صلاة رسول الله صلى الله عليه وسلم من الليل ثلاث عشرة ركعة، ثم اضطجع، فنام حتى نفخ، وكان إذا نام نفخ، فاتاه بلال، فآذنه بالصلاة فقام فصلى ولم يتوضا، وكان في دعائه: " اللهم اجعل في قلبي نورا، وفي بصري نورا، وفي سمعي نورا، وعن يميني نورا، وعن يساري نورا، وفوقي نورا، وتحتي نورا، وامامي نورا، وخلفي نورا، وعظم لي نورا "، قال كريب: وسبعا في التابوت، فلقيت بعض ولد العباس فحدثني بهن، فذكر: عصبي، ولحمي، ودمي، وشعري، وبشري، وذكر: خصلتين.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ ایک رات میں اپنی خالہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے پاس رہا (اس لئے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تہجد کی نماز دیکھیں) اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات کو اٹھے اور اپنی قضائے حاجت کو گئے پھر اپنا منہ اور ہاتھ دھویا۔ پھر سو رہے۔ پھر اٹھے اور مشک کے پاس آئے اور اس کا بندھن کھولا۔ پھر دو وضوؤں کے بیچ کا وضو کیا (یعنی نہ بہت مبالغہ کا نہ بہت ہلکا) اور زیادہ پانی نہیں گرایا اور پورا وضو کیا۔ پھر کھڑے ہو کر نماز پڑھی اور میں بھی اٹھا اور انگڑائی لی کہ کہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم یہ نہ سمجھیں کہ یہ ہمارا حال دیکھنے کے لئے ہوشیار تھا (اس سے معلوم ہوا کہ صحابہ رضی اللہ عنہم کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ علم غیب کا عقیدہ نہ تھا جیسے اب جاہلوں کو انبیا علیہم السلام اور اولیا رحمہ اللہ علیہم کے ساتھ ہے) اور میں نے وضو کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بائیں طرف کھڑا ہوا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا ہاتھ پکڑ کر گھما کر اپنی دہنی طرف کھڑا کر لیا (اس سے معلوم ہوا کہ مقتدی ہو تو امام کی داہنی طرف کھڑا ہو) غرض کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز رات کو تیرہ رکعت پوری ہوئی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم لیٹ رہے اور سو گئے یہاں تک کہ خراٹے لینے لگے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت مبارک تھی جب سو جاتے تھے خراٹے لیتے تھے۔ پھر بلال رضی اللہ عنہ آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو صبح کی نماز کے لئے آگاہ کیا۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے اور صبح کی نماز ادا کی اور وضو نہیں کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا میں یہ لفظ تھے: «اللَّهُمَّ اجْعَلْ فِى قَلْبِى نُورًا وَفِى بَصَرِى نُورًا وَفِى سَمْعِى نُورًا وَعَنْ يَمِينِى نُورًا وَعَنْ يَسَارِى نُورًا وَفَوْقِى نُورًا وَتَحْتِى نُورًا وَأَمَامِى نُورًا وَخَلْفِى نُورًا وَعَظِّمْ لِى نُورًا» تک یعنی: یا اللہ! کر دے میرے دل میں نور اور آنکھ میں نور اور کان میں نور اور میرے دائیں نور اور میرے بائیں نور اور میرے اوپر نور اور میرے نیچے نور اور میرے آگے نور اور پیچھے نور اور بڑھا دے میرے لئے نور۔“ کریب (جو راوی حدیث ہیں) نے کہا کہ سات لفظ اور فرمائے تھے کہ وہ میرے دل میں (یعنی منہ پر نہیں آتے اس لئے کہ میں بھول گیا) پھر میں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی بعض اولاد سے ملاقات کی، انہوں نے مجھ سے بیان کیا کہ وہ لفظ یہ ہیں اور ذکر کیا کہ میرا پٹھا اور میرا گوشت اور میرا لہو اور میرے بال اور میری کھال اور دو چیزیں اور ذکر کی (یعنی ان سب میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نور مانگا)۔