حدثنا محمد بن مهران الرازي ، حدثنا الوليد بن مسلم ، حدثنا الاوزاعي ، حدثني عبدة ، عن زر ، قال: سمعت ابي بن كعب ، يقول: وقيل له: إن عبد الله بن مسعود، يقول: " من قام السنة، اصاب ليلة القدر، فقال ابي: والله الذي لا إله إلا هو، إنها لفي رمضان يحلف ما يستثني، ووالله إني لاعلم اي ليلة هي، هي الليلة التي امرنا بها رسول الله صلى الله عليه وسلم بقيامها، هي ليلة صبيحة سبع وعشرين، وامارتها ان تطلع الشمس في صبيحة يومها بيضاء لا شعاع لها ".
زر سے روایت ہے کہ میں نے سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے سنا اور ان سے کہا گیا کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جو سال بھر تک جاگے اس کو شب قدر ملے۔ سیدنا ابی رضی اللہ عنہ نے کہا: قسم ہے اس اللہ کی کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے کہ بے شک شب قدر رمضان میں ہے اور وہ قسم کھاتے تھے اور ان شاء اللہ تعالیٰ نہیں کہتے تھے (مطلب یہ کہ اپنی قسم پر یقین تھا کہ سچی ہے) اور کہتے تھے کہ قسم ہے اللہ کی میں خوب جانتا ہوں کہ وہ کون سی رات ہے؟ وہ وہی رات ہے جس میں ہم کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جاگنے کا حکم کیا۔ وہ، وہ رات ہے جس کی صبح کو ستائیس تاریخ ہوتی ہے۔ اور نشانی شب قدر کی یہ ہے کہ اس کی صبح کو سورج نکلتا ہے اور اس میں شعاع نہیں ہوتی۔