كِتَاب صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا مسافروں کی نماز اور قصر کے احکام

حدثنا يحيى بن يحيى ، قال: قرات على مالك ، عن ابن شهاب ، عن عروة ، عن عائشة ، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم، " صلى في المسجد ذات ليلة، فصلى بصلاته ناس، ثم صلى من القابلة فكثر الناس، ثم اجتمعوا من الليلة الثالثة او الرابعة، فلم يخرج إليهم رسول الله صلى الله عليه وسلم، فلما اصبح، قال: قد رايت الذي صنعتم، فلم يمنعني من الخروج إليكم، إلا اني خشيت ان تفرض عليكم، قال: وذلك في رمضان ".

‏‏‏‏ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد میں ایک رات نماز پڑھی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چند لوگ تھے۔ دوسرے دن لوگ زیادہ ہو گئے۔ پھر تیسری یا چوتھی رات تو لوگ بہت جمع ہو گئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی طرف نہ نکلے پھر جب صبح ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں تمہارا حال دیکھتا تھا اور میں نہ نکلا مگر اس وجہ سے کہ مجھے خوف ہوا کہ (یہ نماز تراویح) کہیں تم پر فرض نہ ہو جائے۔

صحيح مسلم # 1783
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp