كِتَاب صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا مسافروں کی نماز اور قصر کے احکام

حدثنا خلف بن هشام ، وابو كامل ، قالا: حدثنا حماد بن زيد ، عن انس بن سيرين ، قال: سالت ابن عمر ، قلت: ارايت الركعتين قبل صلاة الغداة، ااطيل فيهما القراءة؟ قال: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يصلي من الليل مثنى مثنى ويوتر بركعة، قال: قلت: إني لست عن هذا اسالك، قال: إنك لضخم، الا تدعني استقرئ لك الحديث، كان رسول الله صلى الله عليه وسلم، " يصلي من الليل مثنى مثنى، ويوتر بركعة، ويصلي ركعتين قبل الغداة، كان الاذان باذنيه "، قال خلف: ارايت الركعتين قبل الغداة؟ ولم يذكر صلاة.

‏‏‏‏ انس بن سیرین نے کہا کہ میں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا: مجھے خبر دیجئے دو رکعتوں کے بارہ میں جو صبح کی نماز سے پہلے ہیں۔ میں ان میں قرأت طویل کرتا ہوں۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو دو دو رکعت پڑھا کرتے تھے اور وتر ایک رکعت پڑھتے تھے۔ ابن سیرین نے کہا: میں یہ نہیں پوچھتا۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ تم موٹے آدمی ہو (یعنی موٹی عقل والے کہ بیچ میں بول اٹھے) مجھے فرصت نہ دی کہ میں تم سے پوری حدیث بیان کرتا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو دو دو رکعت پڑھتے تھے اور وتر ایک رکعت ادا کرتے تھے اور دو رکعت صبح کی فرض نماز سے پہلے ایسے وقت پڑھتے کہ تکبیر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کان میں ہوتی (یعنی تکبیر کے وقت پڑھتے۔ اور ظاہر ہے اس وقت جو نماز ہو گی نہایت خفیف ہو گی) خلف نے اپنی روایت میں «أَرَأَيْتَ» کہا اور نماز کا ذکر نہیں کیا۔

صحيح مسلم # 1761
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp