كِتَاب صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا مسافروں کی نماز اور قصر کے احکام

وحدثنا محمد بن المثنى ، وابن بشار ، قالا: حدثنا محمد بن جعفر ، حدثنا شعبة ، عن عمرو بن مرة ، عن عبد الرحمن بن ابي ليلى ، قال: ما اخبرني احد انه راى النبي صلى الله عليه وسلم يصلي الضحى، إلا ام هانئ ، فإنها حدثت، " ان النبي صلى الله عليه وسلم دخل بيتها يوم فتح مكة، فصلى ثماني ركعات، ما رايته صلى صلاة قط اخف منها، غير انه كان يتم الركوع، والسجود "، ولم يذكر ابن بشار في حديثه قوله: قط.

‏‏‏‏ عبدالرحمٰن نے کہا کہ مجھے کسی نے خبر نہیں دی کہ اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو چاشت کی نماز پڑھتے دیکھا ہو مگر ام ہانی رضی اللہ عنہا نے کہ انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرے گھر آئے جس دن کہ مکہ فتح ہوا اور آٹھ رکعت پڑھیں کہ میں نے کبھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اتنی جلدی نماز پڑھتے نہیں دیکھا فقط اتنی بات تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم رکوع اور سجدہ خوب پورا کرتے تھے (اور قرأت بہت کم پڑھتے تھے) اور ابن بشار نے اپنی روایت میں «قَطُّ» کا لفظ نہیں کہا۔

صحيح مسلم # 1667
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp