كِتَاب صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا مسافروں کی نماز اور قصر کے احکام

وحدثني علي بن حجر السعدي ، حدثنا إسماعيل ، عن عبد الحميد صاحب الزيادي، عن عبد الله بن الحارث ، عن عبد الله بن عباس ، " انه قال لمؤذنه في يوم مطير: إذا قلت: اشهد ان لا إله إلا الله، اشهد ان محمدا رسول الله، فلا تقل: حي على الصلاة، قل: صلوا في بيوتكم، قال: فكان الناس استنكروا ذاك، فقال: اتعجبون من ذا، قد فعل ذا من هو خير مني، إن الجمعة عزمة، وإني كرهت ان اخرجكم فتمشوا في الطين، والدحض ".

‏‏‏‏ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے اپنے مؤذن سے کہا جس دن مینہ تھا کہ جب تم شہادتیں کہہ چکو «حَىَّ عَلَى الصَّلاَةِ» نہ کہو بلکہ کہو «صَلُّوا فِى بُيُوتِكُمْ» اپنے گھروں میں نماز پڑھ لو تو لوگوں کو یہ بات نئی معلوم ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ تم کو اس سے تعجب ہوا۔ یہ تو اس نے کیا ہے جو مجھ سے بہتر تھے (یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے) جمعہ اگرچہ واجب ہے مگر مجھے برا معلوم ہوا کہ میں تمہیں تکلیف دوں اور تم کیچڑ اور پھسلن میں چلو۔

صحيح مسلم # 1604
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp