كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة مسجدوں اور نماز کی جگہ کے احکام

حدثني ابو الطاهر ، وحرملة بن يحيى ، قالا: اخبرنا ابن وهب ، اخبرني يونس بن يزيد ، عن ابن شهاب ، قال: اخبرني سعيد بن المسيب ، وابو سلمة بن عبد الرحمن بن عوف ، انهما سمعا ابا هريرة ، يقول: " كان رسول الله صلى الله عليه وسلم، يقول حين يفرغ من صلاة الفجر، من القراءة، ويكبر، ويرفع راسه: سمع الله لمن حمده، ربنا ولك الحمد، ثم يقول وهو قائم: اللهم انج الوليد بن الوليد وسلمة بن هشام، وعياش بن ابي ربيعة والمستضعفين من المؤمنين، اللهم اشدد وطاتك على مضر، واجعلها عليهم كسني يوسف، اللهم العن لحيان، ورعلا، وذكوان، وعصية عصت الله ورسوله، ثم بلغنا، انه ترك ذلك لما انزل ليس لك من الامر شيء او يتوب عليهم او يعذبهم فإنهم ظالمون سورة آل عمران آية 128 ".

‏‏‏‏ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز فجر کی قرأت سے فارغ ہو جاتے تو سر مبارک رکوع سے اٹھاتے (یعنی دوسری رکعت میں) کہتے «‏‏‏‏سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ» یعنی سنا اللہ نے جس نے اس کی حمد کی، اے ہمارے رب! سب تعریف تجھ ہی کو ہے پھر کھڑے ہی کھڑے کہتے: یا اللہ! نجات دے ولید بن ولید کو اور سلمہ بن ہشام اور عیاش بن ابی ربیعہ کو (یہ سب مسلمان کفار کے ہاتھ میں تھے) اور نجات دے مؤمنوں میں سے ضعیف لوگوں کو، (یعنی جو مکہ والوں کے ہاتھ میں دبے پڑے ہیں) یا اللہ (قبیلہ) مضر کو اپنی سختی سے روندھ دے اور ان پر یوسف علیہ السلام کے زمانہ کی طرح قحط ڈال دے (جیسے مصر میں سات برس واقع ہوا تھا) یا اللہ! لعنت کر لحیان اور رعل اور ذکوان اور عصیہ پر جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی) پھر ہم کو خبر پہنچی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بددعا موقوف کی جب یہ آیت اتری «لَيْسَ لَكَ مِنَ الأَمْرِ شَىْءٌ أَوْ يَتُوبَ عَلَيْهِمْ أَوْ يُعَذِّبَهُمْ فَإِنَّهُمْ ظَالِمُونَ» یعنی اے نبی! تم کو اس کام میں کچھ اختیار نہیں اللہ چاہے تو ان کی توبہ قبول کرے چاہے انہیں عذاب کرے کیونکہ وہ ظالم ہیں۔

صحيح مسلم # 1540
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp