وحدثنا ابو بكر بن ابي شيبة ، وابو سعيد الاشج كلاهما، عن ابي خالد ، قال ابو بكر : حدثنا ابو خالد الاحمر ، عن الاعمش ، عن إسماعيل بن رجاء ، عن اوس بن ضمعج ، عن ابي مسعود الانصاري ، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " يؤم القوم، اقرؤهم لكتاب الله، فإن كانوا في القراءة سواء، فاعلمهم بالسنة، فإن كانوا في السنة سواء، فاقدمهم هجرة، فإن كانوا في الهجرة سواء، فاقدمهم سلما، ولا يؤمن الرجل الرجل في سلطانه، ولا يقعد في بيته على تكرمته، إلا بإذنه "، قال الاشج في روايته: مكان سلما، سنا،
سیدنا ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ نے کہا کہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قوم کی امامت وہ کرے جو قرآن زیادہ جانتا ہو اگر قرآن میں برابر ہوں تو جو سنت زیادہ جانتا ہو۔ اگر سنت میں برابر ہوں تو جس نے پہلے ہجرت کی ہو۔ اگر ہجرت میں برابر ہوں تو جو اسلام پہلے لایا ہو۔ اور کسی کی حکومت کی جگہ میں جا کر اس کی امامت نہ کرے اور نہ اس کے گھر میں اس کی مسند پر بیٹھے مگر اس کے حکم سے۔“ اشج نے اسلام کی جگہ عمر کو ذکر کیا یعنی جس کی عمر زیادہ ہو۔