حدثنا محمد بن المثنى ، حدثنا عبد الصمد بن عبد الوارث ، قال: سمعت ابي يحدث، قال: حدثني الجريري ، عن ابي نضرة ، عن جابر بن عبد الله ، قال: خلت البقاع حول المسجد، فاراد بنو سلمة، ان ينتقلوا إلى قرب المسجد، فبلغ ذلك رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقال لهم: إنه بلغني انكم تريدون ان تنتقلوا قرب المسجد؟ قالوا: نعم يا رسول الله، قد اردنا ذلك، فقال: يا بني سلمة، " دياركم تكتب آثاركم، دياركم تكتب آثاركم ".
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے کہا: کچھ جگہیں مسجد کے گرد خالی ہوئی ہیں تو بنو سلمہ کے قبیلہ والوں نے چاہا کہ مسجد کے پاس اٹھ آئیں اور یہ خبر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہاری خبر ہم کو پہنچی ہے کہ تم چاہتے ہو کہ مسجد کے قریب آ رہیں۔“ انہوں نے کہا کہ ہاں اے اللہ کے رسول! ہم نے چاہا تو ہے۔ تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے بنی سلمہ! تم اپنے ہی گھروں میں رہو تمہارے قدم لکھے جاتے ہیں۔“ (یعنی تاکہ ان کا ثواب ملے)۔