حدثنا يحيى بن يحيى ، اخبرنا عبثر ، عن سليمان التيمي ، عن ابي عثمان النهدي ، عن ابي بن كعب ، قال: " كان رجل، لا اعلم رجلا ابعد من المسجد منه، وكان لا تخطئه صلاة، قال: فقيل له: او قلت له: لو اشتريت حمارا تركبه في الظلماء، وفي الرمضاء؟ قال: ما يسرني ان منزلي إلى جنب المسجد، إني اريد ان يكتب لي ممشاي إلى المسجد، ورجوعي، إذا رجعت إلى اهلي، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: قد جمع الله لك ذلك كله ".
سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ایک شخص تھا کہ اس کے مکان سے زیادہ کسی کا مکان مسجد سے دور نہ تھا اور کبھی کوئی جماعت اس کی نہ جاتی تو اس سے کہا گیا یا میں نے کہا: تم اگر ایک گدھا خرید لو کہ اس پر سوار ہو کر آیا کرو اندھیری اور دھوپ میں تو اچھا ہو۔ اس نے کہا: میں یہ نہیں چاہتا کہ میرا گھر مسجد کے بازو میں ہو، اس لئے میں یہ چاہتا ہوں کہ میرے قدم مسجد کی طرف لکھے جائیں اور میرا لوٹنا بھی جب میں گھر کو لوٹوں تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے ان سب کا ثواب تمہارے لئے اکھٹا کیا ہے۔“