كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة مسجدوں اور نماز کی جگہ کے احکام

حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة ، حدثنا الفضل بن دكين ، عن ابي العميس ، عن علي بن الاقمر ، عن ابي الاحوص ، عن عبد الله ، قال: " من سره، ان يلقى الله غدا مسلما، فليحافظ على هؤلاء الصلوات، حيث ينادى بهن، فإن الله شرع لنبيكم صلى الله عليه وسلم، سنن الهدى، وإنهن من سنن الهدى، ولو انكم صليتم في بيوتكم، كما يصلي هذا المتخلف في بيته، لتركتم سنة نبيكم، ولو تركتم سنة نبيكم، لضللتم، وما من رجل يتطهر فيحسن الطهور، ثم يعمد إلى مسجد من هذه المساجد، إلا كتب الله له بكل خطوة يخطوها حسنة، ويرفعه بها درجة، ويحط عنه بها سيئة، ولقد رايتنا وما يتخلف عنها، إلا منافق معلوم النفاق، ولقد كان الرجل يؤتى به، يهادى بين الرجلين، حتى يقام في الصف ".

‏‏‏‏ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ جس کو خوش لگے کہ اللہ سے ملاقات کرے قیامت کے دن مسلمان ہو کر تو ضروری ہے کہ ان نمازوں کی حفاظت کرے جہاں اذان ہوتی ہو اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے طریقے مقرر کر دئیے اور یہ نمازیں بھی انہیں میں سے ہیں۔ اگر تم ان کو گھر میں پڑھو جیسے فلاں جماعت کا چھوڑنے والا اپنے گھر میں پڑھتا ہے تو بے شک تم نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ چھوڑ دیا۔ اور اگر تم نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ چھوڑا تو بے شک تم گمراہ ہو گئے اور کوئی ایسا نہیں ہے کہ طہارت کرے اور اچھی طہارت کرے۔ پھر ان مسجدوں میں سے کسی مسجد کا ارادہ کرے مگر اللہ تعالیٰ اس کے ہر قدم پر کہ وہ رکھتا ہے ایک نیکی لکھتا ہے اور ایک درجہ بلند کرتا ہے اور ایک بدی گھٹاتا ہے اور ہم اپنے تئیں ایسا دیکھتے تھے کہ جماعت سے غیر حاضر نہیں ہوتا تھا مگر منافق جس کا نفاق کھلا ہوتا تھا اور آدمی دو شخصوں کے کاندھوں پر ہاتھ رکھ کر چلایا جاتا تھا یہاں تک کہ صف میں کھڑا کر دیا جاتا تھا۔

صحيح مسلم # 1488
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp