حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة ، حدثنا محمد بن بشر العبدي ، حدثنا زكرياء بن ابي زائدة ، حدثنا عبد الملك بن عمير ، عن ابي الاحوص ، قال: قال عبد الله : " لقد رايتنا وما يتخلف عن الصلاة، إلا منافق قد علم نفاقه، او مريض، إن كان المريض ليمشي بين رجلين، حتى ي?اتي الصلاة، وقال: إن رسول الله صلى الله عليه وسلم، علمنا سنن الهدى، وإن من سنن الهدى الصلاة في المسجد، الذي يؤذن فيه ".
ابوالاحوص نے کہا کہ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ہم لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ نماز باجماعت سے پیچھے نہیں رہتا مگر منافق (یعنی تارک الجماعت کو ہم منافق جانتے ہیں) کہ جس کا نفاق کھلا ہوا ہو یا بیمار ہو اور بیمار بھی دو شخصوں کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر چلتا تھا اور نماز میں ملتا تھا (یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں) اور انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم کو دین اور ہدایت کی باتیں سکھائیں اور انہی ہدایت کی باتوں میں سے ہے ایسی مسجد میں نماز پڑھنا جس میں آذان ہوتی ہے۔