وحدثني عمرو الناقد ، حدثنا سفيان بن عيينة ، عن ابي الزناد ، عن الاعرج ، عن ابي هريرة ، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقد ناسا في بعض الصلوات، فقال: " لقد هممت ان آمر رجلا يصلي بالناس، ثم اخالف إلى رجال يتخلفون عنها، فآمر بهم، فيحرقوا عليهم بحزم الحطب بيوتهم، ولو علم احدهم انه يجد عظما سمينا لشهدها "، يعني صلاة العشاء.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بعض لوگوں کو کسی نماز میں نہ پایا تو فرمایا: ”میں نے ارادہ کیا کہ ایک شخص کو حکم کروں کہ نماز کی امامت کرے اور میں جاؤں ان کی طرف جو نماز میں نہیں آئے اور حکم کروں گا کہ لکڑیوں کا ایک ڈھیر لگا کر ان کے گھروں کو جلا دیں اور اگر کوئی شخص ایک ہڈی فربہ جانور کے پائے تو ضرور آئے۔“ مراد رکھتے تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز عشاء کو۔ (یعنی نماز کو نہیں آتے اور ہڈی سن کر دوڑتے ہیں)۔