كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة مسجدوں اور نماز کی جگہ کے احکام

وحدثنا ابو بكر بن ابي شيبة ، حدثنا عبد الله بن إدريس ، عن شعبة ، عن ابي عمران ، عن عبد الله بن الصامت ، عن ابي ذر ، قال: " إن خليلي اوصاني، ان اسمع واطيع، وإن كان عبدا مجدع الاطراف، وان اصلي الصلاة لوقتها، فإن ادركت القوم وقد صلوا، كنت قد احرزت صلاتك، وإلا كانت لك نافلة ".

‏‏‏‏ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میرے دوست (یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ) نے مجھے وصیت فرمائی کہ میں حاکم کی بات سنوں اور اس کا کہا مانوں اگرچہ ایک ہاتھ پیر کٹا ہوا غلام ہو اور یہ کہ میں اپنے وقت پر نماز پڑھوں پھر اگر لوگوں کو پاؤ کہ وہ نماز پڑھ چکے تو تو نے اپنی نماز پہلے ہی محفوظ کر لی اور نہیں تو وہ تیرے لئے نفل ہو گئی (یعنی جو دوبارہ ان کے ساتھ پڑھی)۔

صحيح مسلم # 1467
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp