وحدثنا نصر بن علي الجهضمي ، وإسحاق بن موسى الانصاري ، قالا: حدثنا معن ، عن مالك ، عن يحيى بن سعيد ، عن عمرة ، عن عائشة ، قالت: " إن كان رسول الله صلى الله عليه وسلم، ليصلي الصبح، فينصرف النساء، متلفعات بمروطهن، ما يعرفن من الغلس "، وقال الانصاري في روايته: متلففات.
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز صبح ادا کرتے تھے اور عورتیں اپنی چادروں میں لپٹی ہوئیں جاتی تھیں اور اندھیرے میں پہچانی نہ جاتی تھیں اور انصاری نے اپنی روایت میں «مُتَلَفِّفَاتٍ» کہا ہے اس کے معنی بھی وہی لپٹی ہوئیں کے ہیں۔