حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة ، وزهير بن حرب كلهم، وعمرو الناقد ، عن سفيان بن عيينة ، قال عمرو حدثنا سفيان بن عيينة ، عن الزهري ، عن عروة ، عن عائشة ، " ان نساء المؤمنات، كن يصلين الصبح مع النبي صلى الله عليه وسلم، ثم يرجعن متلفعات بمروطهن، لا يعرفهن احد ".
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ مؤمن عورتیں نماز پڑھتی تھیں صبح کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پھر اپنی چادروں میں لپٹی ہوئی لوٹتی تھیں کہ ان کو کوئی نہیں پہچانتا تھا (یعنی نماز کے بعد اتنا اندھیرا ہوتا تھا)۔