وحدثنا محمد بن رافع ، حدثنا عبد الرزاق ، اخبرنا ابن جريج ، قال: قلت لعطاء : اي حين احب إليك ان اصلي العشاء، التي يقولها الناس العتمة إماما وخلوا؟ قال: سمعت ابن عباس ، يقول: اعتم نبي الله صلى الله عليه وسلم ذات ليلة العشاء، قال: حتى رقد ناس، واستيقظوا، ورقدوا، واستيقظوا، فقام عمر بن الخطاب، فقال: الصلاة، فقال ابن عباس: فخرج نبي الله صلى الله عليه وسلم، كاني انظر إليه الآن، يقطر راسه ماء، واضعا يده على شق راسه، قال: " لولا ان يشق على امتي، لامرتهم ان يصلوها "، كذلك قال: فاستثبت عطاء، كيف وضع النبي صلى الله عليه وسلم يده على راسه، كما انباه ابن عباس، فبدد لي عطاء بين اصابعه شيئا من تبديد، ثم وضع اطراف اصابعه على قرن الراس، ثم صبها يمرها كذلك على الراس، حتى مست إبهامه طرف الاذن مما يلي الوجه، ثم على الصدغ، وناحية اللحية لا يقصر، ولا يبطش بشيء إلا كذلك، قلت لعطاء: كم ذكر لك اخرها النبي صلى الله عليه وسلم ليلتئذ؟ قال: لا ادري، قال عطاء: احب إلي ان اصليها إماما، وخلوا مؤخرة، كما صلاها النبي صلى الله عليه وسلم، ليلتئذ، فإن شق عليك ذلك، خلوا، او على الناس في الجماعة، وانت إمامهم، فصلها وسطا لا معجلة، ولا مؤخرة.
ابن جریج نے کہا: میں نے عطاء سے کہا کہ تمہارے نزدیک کون سا وقت بہتر ہے کہ میں اس وقت عشاء کی نماز پڑھا کروں جس کو لوگ عتمہ کہتے ہیں خواہ امام ہو کر خواہ تنہا؟ سو عطاء نے کہا کہ میں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا وہ فرماتے تھے کہ ایک رات نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عشاء کی نماز میں دیر کی یہاں تک کہ لوگ سو گئے پھر جاگے اور پھر سو گئے اور پھر جاگے۔ پھر سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کہا کہ نماز (یعنی پکارا کہ نماز کا وقت ہو گیا) پھر عطاء نے کہا کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ نکلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گویا کہ میں اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ رہا ہوں کہ سر مبارک سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پانی ٹپک رہا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے سر کے اوپر ہاتھ رکھے ہوئے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر میری امت پر بار نہ ہوتا تو میں انہیں حکم کرتا کہ وہ اس نماز کو اسی وقت پڑھا کرے۔“ ابن جریج نے کہا کہ میں نے عطاء سے کیفیت پوچھی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے سر پر ہاتھ کیسے رکھا تھا اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے آپ کو کس طرح بتایا تھا۔ سو عطاء نے اپنی انگلیاں تھوڑی سی کھولیں۔ پھر اپنی انگلیوں کے کنارے اپنے سر پر رکھے پھر ان کو سر سے جھکایا اور پھیرا یہاں تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا انگوٹھا کان کے اس کنارے کی طرف پہنچا جو کنارہ منہ کی جانب ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا انگوٹھا کنپٹی تک اور داڑھی کے کنارے تک ہاتھ کسی چیز پر نہ پرتا تھا اور نہ کسی کو پکڑتا تھا مگر ایسا ہی میں نے عطاء سے کہا کہ انہوں نے یہ بھی ذکر کیا کہ انہوں نے اس رات میں عشاء میں کتنی دیر کی۔ کہا: میں نہیں جانتا پھر عطاء نے کہا کہ میں دوست رکھتا ہوں کہ میں اسی وقت نماز پڑھا کروں۔ امام ہو کر یا تنہا دیر کر کے، جیسے ادا کیا اس کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس رات میں اور اگر تم پر بار گزرے یا لوگوں پر بار ہو اور تم ان کے امام ہو تو اس کو متوسط وقت میں ادا کیا کرو، نہ جلدی، نہ دیر کر کے۔