وحدثنا منصور بن ابي مزاحم ، حدثنا عبد الله بن المبارك ، عن ابي بكر بن عثمان بن سهل بن حنيف ، قال: سمعت ابا امامة بن سهل ، يقول: " صلينا مع عمر بن عبد العزيز الظهر، ثم خرجنا، حتى دخلنا على انس بن مالك ، فوجدناه يصلي العصر، فقلت: يا عم، ما هذه الصلاة التي صليت؟ قال: " العصر، وهذه صلاة رسول الله صلى الله تعالى عليه وسلم، التي كنا نصلي معه ".
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کے ساتھ نماز پڑھی۔ پھر انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے پاس گئے تو ان کو عصر کی نماز پڑھتے دیکھا تو میں نے کہا: اے میرے چچا! یہ کون سی نماز ہے؟ انہوں نے فرمایا: عصر کی اور یہ وہ نماز ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پڑھا کرتے تھے (یعنی مسنون وقت یہی ہے)۔