كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة مسجدوں اور نماز کی جگہ کے احکام

وحدثني إبراهيم بن محمد بن عرعرة السامي ، حدثنا حرمي بن عمارة ، حدثنا شعبة ، عن علقمة بن مرثد ، عن سليمان بن بريدة ، عن ابيه ، ان رجلا، اتى النبي صلى الله عليه وسلم، فساله عن مواقيت الصلاة، فقال: " اشهد معنا الصلاة، فامر بلالا فاذن بغلس، فصلى الصبح، حين طلع الفجر، ثم امره بالظهر، حين زالت الشمس عن بطن السماء، ثم امره بالعصر، والشمس مرتفعة، ثم امره بالمغرب حين وجبت الشمس، ثم امره بالعشاء حين وقع الشفق، ثم امره الغد فنور بالصبح، ثم امره بالظهر، فابرد، ثم امره بالعصر، والشمس بيضاء نقية، لم تخالطها صفرة، ثم امره بالمغرب، قبل ان يقع الشفق، ثم امره بالعشاء عند ذهاب ثلث الليل او بعضه "، شك حرمي، فلما اصبح، قال: اين السائل؟ ما بين ما رايت وقت.

‏‏‏‏ سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ایک شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور نماز کے وقتوں کی بابت پوچھنے لگا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:تم ہمارے ساتھ نماز میں حاضر رہو، پھر بلال رضی اللہ عنہ کو حکم کیا، انہوں نے اذان دی تاریکی میں، پھر صبح کی نماز پڑھی جب فجر طلوع ہوئی، پھر حکم کیا ظہر کا جب آسمان کے بیچ سے آفتاب ڈھلا، پھر حکم کیا عصر کا اور سورج بلند تھا، پھر حکم دیا مغرب کا جب سورج ڈوبا، پھر حکم دیا عشاء کا جب شفق ڈوبی، پھر حکم کیا ان کو دوسرے دن اور روشنی میں پڑھی صبح، پھر ان کو ظہر کا حکم کیا اور ٹھنڈے وقت نماز پڑھی، پھر ان کو عصر کا حکم کیا اور سورج سفید تھا کہ اس میں زردی نہ ملنے پائی تھی، پھر ان کو مغرب کا حکم کیا قبل اس کے کہ شفق جانے پائے پھر ان کو عشاء کا حکم کیا جب ثلث لیل گزر گئی یا اس سے کچھ کم۔ شک کیا حری نے اس میں (جو راوی حدیث ہیں)، پھر صبح ہوئی فرمایا:کہاں ہے وہ سائل؟ پھر فرمایا:اس کے درمیان میں جو تم نے دیکھا ہے سب وقت ہے۔

صحيح مسلم # 1392
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp