كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة مسجدوں اور نماز کی جگہ کے احکام

حدثنا زهير بن حرب ، حدثنا إسماعيل ابن علية ، اخبرني الحجاج بن ابي عثمان ، عن ابي الزبير ، عن عون بن عبد الله بن عتبة ، عن ابن عمر ، قال: " بينما نحن نصلي مع رسول الله صلى الله عليه وسلم، إذ قال رجل من القوم: الله اكبر كبيرا، والحمد لله كثيرا، وسبحان الله بكرة واصيلا، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " من القائل كلمة كذا وكذا؟ "، قال رجل من القوم: انا يا رسول الله، قال: " عجبت لها، فتحت لها ابواب السماء "، قال ابن عمر: فما تركتهن، منذ سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم، يقول ذلك.

‏‏‏‏ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھتے تھے کہ ایک شخص نے حاضرین میں سے کہا: «اللَّهُ أَكْبَرُ كَبِيرًا وَالْحَمْدُ لِلَّهِ كَثِيرًا وَسُبْحَانَ اللَّهِ بُكْرَةً وَأَصِيلاً» یعنی اللہ بڑا ہے، سب بڑائی اس کے واسطے ہے اور بہت تعریف ہے اس کی اور پاک ہے اللہ پاکی بولنا ہے صبح اور شام، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کس نے یہ کلمے کہے؟ تو قوم میں سے ایک شخص نے عرض کی میں نے کہا یا رسول اللہ! تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے تعجب آیا جب اس کے لئے آسمان کے دروازے کھولے گئے، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا جب سے یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے میں نے سنی میں نے ان کلمات کو کبھی نہیں چھوڑا۔

صحيح مسلم # 1358
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp