كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة مسجدوں اور نماز کی جگہ کے احکام

حدثني زهير بن حرب ، حدثنا جرير ، عن عمارة بن القعقاع ، عن ابي زرعة ، عن ابي هريرة ، قال: " كان رسول الله صلى الله عليه وسلم، إذا كبر في الصلاة، سكت هنية، قبل ان يقرا، فقلت: يا رسول الله، بابي انت وامي، ارايت سكوتك بين التكبير والقراءة، ما تقول؟ قال: اقول: اللهم باعد بيني وبين خطاياي، كما باعدت بين المشرق والمغرب، اللهم نقني من خطاياي، كما ينقى الثوب الابيض من الدنس، اللهم اغسلني من خطاياي بالثلج والماء والبرد ".

‏‏‏‏ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب تکبیر تحریمہ کہتے تو تھوڑی دیر چپ رہتے پھر قرأت کرتے تو میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں، میں دیکھتا ہوں کہ آپ تکبیر اور قرأت کے درمیان چپ ہو جاتے ہیں تو کیا پڑھتے رہتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں کہتا ہوں «اللَّهُمَّ بَاعِدْ بَيْنِى وَبَيْنَ خَطَايَاىَ كَمَا بَاعَدْتَ بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ اللَّهُمَّ نَقِّنِى مِنْ خَطَايَاىَ كَمَا يُنَقَّى الثَّوْبُ الأَبْيَضُ مِنَ الدَّنَسِ اللَّهُمَّ اغْسِلْنِى مِنْ خَطَايَاىَ بِالثَّلْجِ وَالْمَاءِ وَالْبَرَدِ» یعنی یا اللہ! دور کر دے مجھے میرے گناہوں سے جیسے دور کیا تو نے مشرق کو مغرب سے، یا اللہ! صاف کر دے مجھے میری خطاؤں سے، جیسا صاف ہوا ہے سفید کپڑا میل سے، یا اللہ! دھو دے میرے گناہوں کو برف سے اور پانی اور اولوں سے۔

صحيح مسلم # 1354
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp