كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة مسجدوں اور نماز کی جگہ کے احکام

حدثني ابو بكر بن إسحاق ، اخبرنا ابو اليمان ، اخبرنا شعيب ، عن الزهري ، قال: اخبرني عروة بن الزبير ، ان عائشة زوج النبي صلى الله عليه وسلم اخبرته، " ان النبي صلى الله عليه وسلم، كان يدعو في الصلاة، اللهم إني اعوذ بك من عذاب القبر، واعوذ بك من فتنة المسيح الدجال، واعوذ بك من فتنة المحيا والممات، اللهم إني اعوذ بك من الماثم والمغرم "، قالت: فقال له قائل: ما اكثر ما تستعيذ من المغرم يا رسول الله؟ فقال: " إن الرجل إذا غرم، حدث، فكذب، ووعد، فاخلف ".

‏‏‏‏ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں یہ دعا مانگتے: «اللَّهُمَّ إِنِّى أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ اللَّهُمَّ إِنِّى أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْمَأْثَمِ وَالْمَغْرَمِ» یا اللہ! میں پناہ مانگتا ہوں تیری قبر کے عذاب سے اور میں پناہ مانگتا ہوں تیری دجال کے فتنہ سے اور پناہ مانگتا ہوں میں تیری زندگی اور موت کے فتنہ سے، یا اللہ! پناہ مانگتا ہوں میں تیری گناہ اور قرضداری سے، ایک شخص بولا: یا رسول اللہ! آپ اکثر قرض داری سے کیوں پناہ مانگتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب آدمی قرض دار ہوتا ہے تو جھوٹ بولتا ہے اور وعدہ خلافی کرتا ہے۔

صحيح مسلم # 1325
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp